ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / چین سے جنگ کے خدشات کے درمیان وزارت دفاع نے مانگا 20000 کروڑ زیادہ بجٹ

چین سے جنگ کے خدشات کے درمیان وزارت دفاع نے مانگا 20000 کروڑ زیادہ بجٹ

Thu, 10 Aug 2017 02:21:25    S.O. News Service

نئی دہلی:9/اگست(ایس او نیوز /آئی این ایس انڈیا)چین اورہندوستان کے درمیان چل رہی کشیدگی کے درمیان وزارت دفاع نے مرکز سے جنگ کے لیے تیار رہنے کے لیے20ہزارکروڑروپے کے اضافی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ ایسے وقت آیا ہے جب ڈوکلام تنازعہ کو8ہفتے پورے ہوگئے ہیں۔2017میں مرکزکی جانب سے 274113کروڑ روپے کادفاعی بجٹ پیش کیاگیاتھاجوجی ڈی پی کا1.62فیصدتھا۔وہیں یہ بجٹ گزشتہ سال سے محض6فیصد زیادہ تھا۔وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق، بجٹ کا نصف حصہ انہیں مل چکا ہے جس میں سے ایک تہائی خرچ بھی ہو چکا ہے۔چند ہفتے پہلے ہی وزارت دفاع نے فوج کے نائب سربراہ کو جنگ سے منسلک ہتھیاروں کو خریدنے کو کہا تھا۔وہیں فوج کے سامان خریدوفروخت میں بھی لال فیتاشاہی میں کمی لائی گئی ہے۔غور طلب ہے کہ فوج کو کسی بھی وقت کم از کم 10دن کی جنگ کے لئے تیار رہنا ہوتا ہے۔اس سال کے آغاز میں دفاعی سامانوں کی درآمد سے کسٹم ڈیوٹی کو ہٹا دیا گیا تھا۔ذرائع کی مانیں تو اس کی وجہ سے فوج کو کافی پیسہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔اس فیصلے کو اس لیے لیا گیا تھا، تاکہ ملک میں بن رہے سامانوں اور ہتھیاروں کا استعمال بڑھ سکے۔آپ کوبتا دیں کہ اس سے پہلے پارلیمنٹ میں رکھی گئی سی کیگ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوئی جنگ چھڑ نے کی صورت میں فوج کے پاس محض 10دن کے لیے ہی کافی گولہ بارود ہے۔کیگ کی رپورٹ میں کہا گیا کل 152طرح کے گولہ بارود میں سے محض 20فیصد یعنی 31کا ہی اسٹاک تسلی بخش پایا گیا، جبکہ 61قسم کے گولہ بارود کا اسٹاک تشویشناک طور پر کم پایا گیا۔یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستانی فوج کے پاس کم از کم اتنا گولہ بارود ہونا چاہئے، جس سے وہ 20دن کے کسی گھنے تصادم کی صورت حال سے نمٹ سکے،اگرچہ اس سے پہلے فوج کو 40دنوں کا بخارات جنگ لڑنے کے قابل گولہ بارود آپ وار ویسٹیج ریزرو( (WWRمیں رکھنا ہوتا تھا، جسے 1999میں گھٹا کر 20دن کر دیا گیا تھا۔ایسے میں کیگ کی یہ رپورٹ گولہ بارود کی بھاری قلت اجاگر کرتی ہے۔


Share: